• Fri, 06 November, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

غزہ میں ایک ہزار سے زائد شہید کھلاڑیوں کی یاد میں فٹ بال ٹورنامنٹ کا فائنل

Updated: November 06, 2026, 5:03 PM IST | Gaza

فلسطین کے محصور علاقے غزہ میں جنگ کے دوران شہید ہونے والے ایک ہزار سے زائد کھلاڑیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے منعقد کیے گئے فٹ بال ٹورنامنٹ ’’تھاؤزنڈ مارٹرز کپ‘‘ کا فائنل کھیلا گیا۔

Palestine Team.Photo:X
فلسطینی ٹیم۔ تصویر:ایکس

فلسطین کے محصور علاقے غزہ میں جنگ کے دوران شہید ہونے والے ایک ہزار سے زائد کھلاڑیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے منعقد کیے گئے فٹ بال ٹورنامنٹ ’’تھاؤزنڈ مارٹرز کپ‘‘ کا فائنل کھیلا گیا۔ یہ مقابلہ محض ایک کھیل کا مقابلہ نہیں بلکہ ان فلسطینی کھلاڑیوں کی قربانیوں اور یادوں کو زندہ رکھنے کی ایک اہم کوشش ہے جنہوں نے جنگ کے دوران اپنی جانیں گنوائیں۔ تقریباً تین سال کی جنگ اور تباہی کے بعد غزہ میں منظم فٹ بال مقابلوں کی واپسی نے مقامی عوام، کھلاڑیوں اور کھیلوں سے محبت کرنے والوں کے لیے امید اور خوشی کا ایک نادر موقع فراہم کیا ہے۔ اس ٹورنامنٹ کا نام ’’تھاؤزنڈ مارٹرز کپ‘‘ رکھا گیا ہے، جس کا مقصد اکتوبر ۲۰۲۳ء سے جاری جنگ کے دوران جاں بحق ہونے والے فلسطینی کھلاڑیوں کو یاد کرنا ہے۔ فلسطینی کھیلوں کی تنظیموں کے مطابق جنگ کے دوران فٹ بال کھلاڑیوں، کوچوں، ریفریوں اور کھیلوں سے وابستہ دیگر شخصیات سمیت ایک ہزار سے زائد افراد اپنی جانیں گنوا چکے ہیں۔فلسطینی فٹ بال ایسوسی ایشن کے مطابق اس ٹورنامنٹ کا بنیادی مقصد شہید کھلاڑیوں کے نام اور ان کی خدمات کو یاد رکھنا اور فلسطین میں کھیلوں کی سرگرمیوں کو دوبارہ زندہ کرنا ہے۔ ان میں قومی ٹیم کے کھلاڑیوں، اولمپک مقابلوں میں حصہ لینے والے ایتھلیٹس، کلب عہدیداروں، کوچوں اور ریفریوں سمیت کھیلوں کے مختلف شعبوں سے وابستہ افراد شامل ہیں۔ 

یہ بھی پڑھئے:AMU طلبہ یونین انتخابات: نعمان اشرف صدر، نشریٰ نعیم پہلی خاتون نائب صدر منتخب

غزہ میں تقریباً تین سال تک جنگ کے باعث منظم فٹ بال مقابلے متاثر رہے۔ کھیلوں کے میدانوں اور بنیادی سہولتوں کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا، جس کے نتیجے میں کھلاڑیوں کے لیے تربیت اور مقابلوں میں حصہ لینا انتہائی مشکل ہوگیا تھا۔اس کے باوجود فلسطینی کھلاڑیوں نے محدود وسائل اور مشکل حالات میں کھیل جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ غزہ میں کئی مقامات پر تباہ شدہ عمارتوں اور ملبے کے درمیان کھیلوں کی سرگرمیاں دوبارہ شروع کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ بعض مقامات پر مقامی افراد اور کھیلوں سے وابستہ کارکنوں نے ملبہ ہٹا کر عارضی فٹ بال میدان بھی تیار کیے ہیں۔
فائنل مقابلے میں کھلاڑیوں نے وسیع پیمانے پر ہونے والی تباہی کے ماحول میں میدان میں اتر کر اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔ شائقین کے لیے یہ مقابلہ جنگ کی مشکلات اور مسلسل غم کے درمیان خوشی اور اجتماعی یکجہتی کا ایک نادر موقع ثابت ہوا۔  فلسطینی فٹ بال ایسوسی ایشن نے ستمبر ۲۰۲۶ء میں تقریباً تین سال کے تعطل کے بعد فٹ بال مقابلوں کی بحالی کا اعلان کیا تھا۔ اس سلسلے میں مغربی کنارے، غزہ اور لبنان میں موجود فلسطینی کلبوں کو بھی مقابلوں میں شامل کرنے کا منصوبہ بنایا گیا۔ اس اقدام کا مقصد صرف فٹ بال سرگرمیوں کو بحال کرنا نہیں بلکہ جنگ سے متاثرہ نوجوانوں کو کھیلوں کے ذریعے دوبارہ منظم کرنا اور انہیں مثبت سرگرمیوں کے مواقع فراہم کرنا بھی ہے۔

یہ بھی پڑھئے:راجیہ سبھا کے رکن بننے کے بعد بھی تھرڈ کلاس میں سفر کرتے تھے پرتھوی راج کپور

فلسطینی کھیلوں کی قیادت کا کہنا ہے کہ انتہائی مشکل حالات کے باوجود کھیلوں کی سرگرمیوں کو جاری رکھنا فلسطینی عوام کے حوصلے، اتحاد اور زندگی سے وابستگی کی علامت ہے۔ ’تھاؤزنڈ مارٹرز کپ‘ کا انعقاد اسی عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ غزہ میں اس ٹورنامنٹ کے فائنل نے ایک بار پھر واضح کردیا ہے کہ جنگ اور تباہی کے باوجود فلسطینی عوام کھیلوں سے اپنی محبت اور وابستگی برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ ایک ہزار سے زائد شہید کھلاڑیوں کے نام سے منسوب یہ مقابلہ ان افراد کی یاد کو زندہ رکھنے کے ساتھ ساتھ نئی نسل کے کھلاڑیوں کے لیے حوصلے اور عزم کا پیغام بھی ہے۔ اگرچہ غزہ میں کھیلوں کے بنیادی ڈھانچے کی بحالی کے لیے ابھی طویل سفر باقی ہے، تاہم اس ٹورنامنٹ کا کامیاب انعقاد فلسطینی کھیلوں کی واپسی کی جانب ایک اہم علامتی پیش رفت قرار دیا جارہا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK